کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 84
اور دونوں ہاتھوں (کی پشت) پر مسح کیا۔‘‘[1] یعنی الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر اور سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ پر مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ ٭ تیمم کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾’’پاک مٹی سے تیمم کرو۔‘‘[2] اس آیت کی رو سے تیمم، پاک مٹی سے کرنا چاہیے۔ ٭ تیمم جس طرح مٹی سے جائز ہے، اسی طرح شور والی زمین کی سطح سے اور ریت سے بھی جائز ہے۔ ٭ وضو کی طرح ایک تیمم سے کئی نمازیں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے۔ ٭ جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے، انھی چیزوں سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ٭ تیمم کر کے نماز پڑھ لینے کے بعد اگر نماز کے وقت ہی میں پانی مل جائے تو اسے باوضو ہو کر نماز دہرانے یا نہ دہرانے کا اختیار ہے، البتہ دہرانا بہتر ہے بلکہ اس میں دوہرا یعنی دو نمازوں کا اجر ہے۔[3] [1] صحیح البخاري، التیمم، حدیث: 347، و صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 368 واللفظ لہ۔ صحیح بخاری کی روایت (338) میں مسح کرنے سے پہلے ہاتھوں میں پھونک مارنے کا بھی ذکر ہے۔ [2] النسآء 43:4۔ [3] سنن النسائي، الغسل، حدیث: 433، امام حاکم نے المستدرک: 178/1 میں اور حافظ ذہبی نے اسے امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔