کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 83
نہ مل سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تجھ پر مٹی (سے تیمم کرنا) لازم ہے، اور وہی تیرے لیے کافی ہے۔‘‘[1] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سردی کا موسم تھا۔ ایک آدمی کو غسل جنابت کی ضرورت پیش آئی۔ اس نے اس بارے میں دریافت کیا تو اسے غسل کرنے کو کہا گیا۔ اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ جب اس واقعے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’ان لوگوں نے اسے مار ڈالا۔ اللہ انھیں مارے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مٹی کو پاک کرنے والا بنایا ہے (وہ شخص تیمم کر لیتا تو کافی تھا)۔‘‘ [2] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر زخم پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو وضو کرتے وقت پٹی پر مسح کرلے اور اردگرد کی جگہ دھو لے۔[3] معلوم ہوا کہ اگر کسی کمزور یا بیمار آدمی کو احتلام ہو جائے اور غسل کرنا اس کے لیے ہلاکت یا بیماری کا موجب ہو تو اسے تیمم کر کے نماز پڑھ لینی چاہیے، مزید برآں یہ بھی ثابت ہوا کہ زخموں اور پھوڑوں وغیرہ کی پٹی پر مسح کر لینا درست ہے اورمحتلم، حیض اور نفاس سے فارغ ہونے والی عورتیں بھی بوقت ضرورت تیمم کر کے نماز پڑھ سکتی ہیں، اس لیے کہ تیمم عذر کی حالت میں وضو اور غسل دونوں کا قائم مقام ہے۔ تیمم کا طریقہ: ٭ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں (سفر کی حالت میں) جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے میں جانور کی طرح خاک پر لوٹ پوٹ ہوا، لوٹنیاں لگائیں اور نماز پڑھ لی۔ پھر (سفر سے واپس آ کر میں نے) یہ حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیرے لیے صرف یہی کافی تھا کہ تو اِس طرح کر لیتا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عملی طورپر طریقہ برت کر دکھایا: وضَرَبَ بيَدَيْهِ إلى الأرْضِ فَنَفَضَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ وجْهَهُ وكَفَّيْهِ ’’اور نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر انھیں جھاڑا، پھر ان کے ساتھ اپنے منہ [1] صحیح البخاري، التیمم، حدیث: 344، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 682۔ [2] [صحیح] صحیح ابن خزیمۃ، التیمم، حدیث: 273، وسندہ حسن، امام ابن خزیمہ نے، امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 201 میں، امام حاکم نے المستدرک: 165/1 میں اور حافظ ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے۔ وأخطأ من ضعفہ۔ [3] [صحیح] السنن الکبرٰی للبیھقي، الطھارۃ: 228/1، وسندہ حسن، حدیث: 1079، امام بیہقی نے اسے صحیح کہا ہے۔