کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 79
وہ کام جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تُقبلُ صلاةٌ بغيرِ طهورٍ ’’وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کی جاتی۔‘‘ [1] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے جب تک وہ وضو نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔‘‘ [2] مذی خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے: سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ مذی خارج ہونے سے غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذی خارج ہونے سے غسل واجب قرار نہ دیا بلکہ فرمایا: ’’اپنا عضو مخصوص دھو لو اور وضو کرو۔‘‘ [3] شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص شرمگاہ کو (کپڑے کے بغیر براہ راست) ہاتھ لگائے، تو وہ وضو کرے۔‘‘ [4] نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے: سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم سفر میں اپنے موزے تین دن رات نہ اُتاریں اور پیشاب، پاخانے اور نیند میں ہم انھیں پہنے رکھیں۔[5] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ [1] صحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 224۔ [2] صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 135، وصحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 225۔ [3] صحیح البخاري، الغسل، حدیث: 269، وصحیح مسلم، الحیض، حدیث: 303۔ [4] [صحیح] سنن أبي داود، الطھارۃ، حدیث: 181، وسندہ حسن وھو صحیح بالشواھد، والموطأ للإمام مالک، الطھارۃ: 42/1، امام ترمذی نے حدیث: 82 میں اسے حسن صحیح کہا ہے۔ [5] [حسن] جامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 96 وقال: ’’حسن صحیح‘‘ وسندہ حسن، وصححہ ابن خزیمۃ ((196,193,17 وابن حبان (الإحسان: 1097)۔