کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 70
٭ پھر دایاں ہاتھ کہنی سمیت تین بار دھوئیں، پھر بایاں ہاتھ بھی کہنی سمیت تین بار دھوئیں۔[1] ٭ پھر سر کا مسح کریں۔ دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصے سے شروع کر کے گدی تک پیچھے لے جائیں، پھر پیچھے سے آگے اسی جگہ لے آئیں جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔[2] ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا۔[3] ٭ پھر کانوں کا مسح اس طرح کریں کہ شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں داخل کر کے اندرونی جانب سے گزار کر کانوں کی پشت پر انگوٹھوں کے ساتھ مسح کریں۔[4] ٭ پھر دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین بار دھوئیں اور بایاں پاؤں بھی ٹخنوں سمیت تین بار دھوئیں۔[5] ٭ جب بھی وضو کریں تو ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کریں۔ [6] ٭ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال ہاتھ کی چھنگلی (چھوٹی انگلی) سے کر رہے تھے۔[7] ٭ وضو کے بعد شرم گاہ پرچھینٹے مارے جائیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے بعد سَتْر (شرم گاہ) پر چھینٹے مارتے تھے۔[8] تنبیہات ٭ کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے الگ الگ پانی لینے کا ذکر جس حدیث میں ہے اسے امام ابوداود نے [1] صحیح البخاري، الصیام، حدیث: 1934، وصحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 236۔ [2] صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 185، وصحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 235 [3] صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 186، وصحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 235۔ [4] [صحیح] سنن ابن ماجہ، الطھارۃ، حدیث: 439، وھو حدیث صحیح، وجامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 36 (بدون ذکر السبابتین والإبھامین)۔ امام ترمذی نے اور امام ابن خزیمہ نے حدیث: 148میں اسے صحیح کہا ہے۔ یاد رہے سوراخوں والا مسئلہ سنن أبي داود، حدیث: 131 اور سنن ابن ماجہ، حدیث: 441 میں حسن سند کے ساتھ موجود ہے۔ [5] صحیح البخاري، الصیام، حدیث: 1934، وصحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 226۔ [6] [حسن] جامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 39، وھو حدیث حسن، وسنن ابن ماجہ، الطھارۃ، حدیث: 447، امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ [7] [حسن] سنن أبي داود، الطھارۃ، حدیث: 148، وھو حدیث حسن، وجامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 40۔ اسے امام مالک نے حسن کہا ہے۔ [8] [حسن] سنن النسائي، الطہارۃ، حدیث: 135، و سنن ابن ماجہ، الطہارۃ وسننہا، حدیث: 464۔