کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 65
یتے تھے۔[1] آبادی میں غسل کرتے وقت پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔[2] تنبیہ: نماز کے لیے غسل جنابت کا وضو کافی ہے بشرطیکہ غسل کے دوران میں شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے۔ دیگر غسل: غسل جنابت کے بعد اب ان احوال کا ذکر کیا جا رہا ہے جن میں غسل کرنا واجب، مسنون یا مستحب ہے ۔ جمعہ کے دن غسل: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِذا جاءَ أحَدُكُمُ الجُمُعَةَ، فَلْيَغْتَسِلْ)) ’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے۔‘‘ [3] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہفتے میں ایک دن (جمعۃ المبارک کو) غسل کرے۔ اس میں اپنا سر اور بدن دھوئے۔‘‘ [4] سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعے کے دن ہر بالغ مسلمان پر نہانا واجب ہے۔‘‘ [5] ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جمعے کے دن غسل کرنا واجب ہے کیونکہ اس کی احادیث زیادہ صحیح اور قوی ہیں۔ امام ابن حزم اور علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہما نے بھی اسی مذہب کو اختیار کیا ہے۔[6] میت کو غسل دینے والا غسل کرے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہیے کہ وہ خود بھی نہائے۔‘‘[7] [1] صحیح البخاري، الغسل، حدیث: 273۔ [2] صحیح البخاري، الغسل، حدیث: 281,280، وصحیح مسلم، الحیض، حدیث: 337,336۔ [3] صحیح البخاري، الجمعۃ، حدیث: 877، وصحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: 844۔ [4] صحیح البخاري، الجمعۃ، حدیث: 897، وصحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: 849۔ [5] صحیح البخاري، الجمعۃ، حدیث: 879، وصحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: 846۔ [6] دیکھیے المحلّٰی: 255/1، ونیل الأوطار: 275/1۔ [7] [حسن صحیح] سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3162,3161، وھو حدیث حسن، وجامع الترمذي، الجنائز، حدیث: 993، وسنن ابن ماجہ، الجنائز، حدیث: 1463۔امام ترمذی نے اسے حسن جبکہ امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 751 میں اور امام حاکم نے المستدرک: 23/1 میں صحیح کہا ہے۔