کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 46
طہارت کے احکام پانی کے احکام: نماز کے لیے وضو شرط ہے۔ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح وضو کے لیے پانی کا پاک ہونا شرط ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا:کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر سکتے ہیں؟ یہ ایسا کنواں ہے جس میں (بعض اوقات) حیض والے کپڑے، کتوں کا گوشت اور بدبودار اشیاء گر جاتی ہیں۔ (بضاعہ کا کنواں ڈھلان پر تھا اور بارش وغیرہ کا پانی ان چیزوں کو بہا کر کنویں میں لے جاتا تھا۔) نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الماءُ طَهورٌ لا يُنجِّسُه شيءٌ)) ’’اس کا پانی پاک ہے (اور اس میں دوسری چیزوں کو پاک کرنے کی صلاحیت ہے۔) اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔‘‘[1] معلوم ہوا کہ کنویں کا پانی پاک ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دریا اور سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔‘‘ [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنے سے منع فرمایا۔[3] [1] [حسن] سنن أبي داود، الطھارۃ، حدیث: 66، وسندہ حسن، وجامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 66۔ امام ترمذی نے اسے حسن جبکہ امام ابن حزم نے المحلّٰی: 100/1 میں اور امام نووی رحمہ اللہ نے المجموع: 82/1 میں صحیح کہا ہے، نیز دیکھیے التلخیص الحبیر: 13/1، حدیث: 2۔ [2] [صحیح] سنن أبي داود، الطھارۃ، حدیث: 83، وسندہ صحیح، وجامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 69۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے، امام ابن خزیمہ نے (صحیح، حدیث: 111 میں)، امام ابن حبان نے (صحیح الموارد): 119میں)، امام حاکم نے (المستدرک : 141,140/1 میں)، امام ذہبی نے (تلخیص المستدرک میں) اور امام نووی نے (المجموع: 82/1 میں) صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 283۔