کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 42
پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کا بعد میں انتقال ہوا (کیا تم اس کی نیکیاں نہیں دیکھتے، کس قدر زیادہ ہوگئیں؟) کیا اس نے ایک رمضان کے روزے نہیں رکھے؟ اور سال بھر کی (فرض نمازوں کی)چھ ہزار یا اتنی اتنی رکعتیں زیادہ نہیں پڑھیں؟‘‘ [1] فائدہ: یہ دونوں صحابی مہاجرین میں سے تھے اور دونوں نے اکٹھے ہجرت کی تھی۔ جہاد وغیرہ تمام اعمالِ صالحہ میں بھی یہ دونوں یکساں شریک تھے۔ ان میں سے ایک میدانِ جہاد میں شہید ہو گیا اور دوسرا جہاد کی تیاری میں مصروف اور مرابط رہا اور ساتھ ساتھ اعمالِ صالحہ بھی کرتا رہا۔ چونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مرابط کا اجر و عمل جاری رہتا ہے، لہٰذا یہ اپنے اُس بھائی سے بڑھ گیا جو پہلے شہید ہو گیا تھا۔[2] اہمیت ِنماز: ٭ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وقت پر نماز پڑھنا۔‘‘ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔‘‘ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔‘‘ [3] ٭ اور فرمایا: ’’آدمی اور شرک کے درمیان نماز ہی حائل ہے۔‘‘ [4] ٭ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بعض دوزخیوں پر رحمت کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ دوزخ سے ایسے لوگوں کو باہر نکال لائیں جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ فرشتے انھیں نشانِ سجدہ سے پہچان کر دوزخ سے نکال دیں گے (کیونکہ) سجدے کی جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے، وہاں آگ کا کچھ اثر نہ ہو گا۔‘‘ [5] ٭ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’سب سے افضل عمل اول وقت پر نماز پڑھنا ہے۔‘‘ [6] [1] [حسن] مسند أحمد: 333/2، وسندہ حسن، اسے حافظ منذری نے الترغیب والترھیب: 244/1 میں حسن کہا ہے۔ [2] دیکھیے: مشکل الآثار للطحاوي: 301/3، معلوم ہوا کہ منکرین جہاد کا اس حدیث سے استدلال غلط ہے۔ [3] صحیح البخاري، مواقیت الصلاۃ، حدیث: 527، وصحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 85۔ [4] صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 82۔ [5] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 806، وصحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 182۔ [6] [صحیح] صحیح ابن خزیمۃ، الصلاۃ، حدیث: 327۔ امام ابن خزیمہ نے صحیح ابن خزیمہ میں، امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 280 میں، امام حاکم نے المستدرک: 189,188/1میں اور حافظ ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔