کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 35
کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بالاتفاق قابل قبول ہوتی ہے۔‘‘ ٭ اس میں شک نہیں کہ دین محمدی کا اصل محافظ اللہ تعالیٰ ہے، لہٰذایہ نہیں ہو سکتا کہ دین الٰہی کی کوئی بات مروی نہ ہو یا مروی تو ہو مگر اس کی تمام روایات ضعیف ہوں، اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک چیز دین الٰہی نہ ہو مگر مقبول احادیث کے ذخیرے میں موجود ہو، دوسرے الفاظ میں جو اصل دین ہے وہ مقبول روایات میں موجود ہے اور جو دین نہیں اس روایت پرمؤثر جرح موجود ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر بہتر یہی ہے کہ ضعیف حدیث سے استدلال کا دروازہ بند ہی رہنے دیا جائے، واللہ اعلم۔ مزید دیکھیے: ریاض الصالحین (اردو) طبع دارالسلام، فوائد حدیث: 1381۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’محققین، محدثین اور ائمہ رحمتہ اللہ علیہم کا کہنا ہے کہ جب حدیث ضعیف ہو تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا ہے۔ یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یا اس عمل سے منع کیا ہے۔ ایسا اس لیے کہ جزم کے صیغے روایت کی صحت کا تقاضا کرتے ہیں، لہٰذاان کا اطلاق اسی روایت پر کیا جانا چاہیے جو ثابت ہو، ورنہ وہ انسان نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے والے کے مانند ہوگا مگر (افسوس کہ) اس اصول کو جمہور فقہاء اور دیگر اہل علم نے ملحوظ نہیں رکھا، سوائے محققین محدثین کے اور یہ قبیح قسم کا تساہل ہے کیونکہ وہ (علماء) بہت سی صحیح روایات کے بارے میں صیغۂ تمریض کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی گئی۔ بہت سی ضعیف روایات کے بارے میں صیغۂ جزم کے ساتھ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یا اسے فلاں نے روایت کیاہے۔ اور یہ صحیح طریقے سے ہٹ جانا ہے۔‘‘ [1] معلوم ہوا کہ صحیح اور ضعیف روایات کی پہچان اور ان میں تمیز کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غیر ثابت حدیث منسوب کرنے سے بچا جا سکے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((ولا فرق في العمل بالحديث في الأحكام أو في الفضائل، إذ الكل شرع )) ’’احکام ہوں یا فضائل، حدیث پر عمل کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ سب شریعت میں سے ہیں۔‘‘ [2] [1] مقدمۃ المجموع: 63/1۔ [2] تبیین العجب بما ورد في فضائل رجب، ص: 73۔