کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 338
لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ، اللَّهُمَّ إنّا نَسْأَلُكَ في سَفَرِنا هذا البِرَّ والتَّقْوى، وَمِنَ العَمَلِ ما تَرْضى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنا سَفَرَنا هذا، واطْوِ عَنّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصّاحِبُ في السَّفَرِ، والْخَلِيفَةُ في الأهْلِ، اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بكَ مِن وَعْثاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ المَنْظَرِ، وَسُوءِ المُنْقَلَبِ في المالِ والأهْلِ ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کر لانے والے نہیں تھے۔ اور یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے، اپنے اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفرآسان کر دے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ! اس سفر میں تو ہی (ہمارا) ساتھی ہے اور(تو ہی ہمارا) جانشین ہے گھر والوں میں۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، (اس کے) تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی پر بھی یہی الفاظ کہتے اوران میں یہ اضافہ کرتے: آيِبُونَ تائِبُونَ عابِدُونَ لِرَبِّنا حامِدُونَ ’’(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘[1] کسی شہریا بستی میں داخل ہونے کی دعا اللَّهمَّ ربَّ السَّمواتِ السَّبعِ وما أظلَلْنَ وربَّ الأرضينَ السَّبعِ وما أقلَلْنَ وربَّ الشَّياطينِ وما أضلَلْنَ وربَّ الرِّياحِ وما ذَرَيْنَ اسأَلُك خيرَ هذه القريةِ وخيرَ أهلِها وخیر ما فیہا واعوذُ بك مِن شرِّها [1] صحیح مسلم، حدیث: 1342۔