کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 327
فکر مندی اور غم سے نجات کی دعائیں 1. اللَّهمَّ إنِّي عبدُك وابنُ عبدِك وابنُ أمتِك ناصيتي بيدِك ماضٍ فيَّ حكمُك عدلٌ فيَّ قضاؤُك أسألُك بكلِّ اسمٍ هو لك سمَّيْتَ به نفسَك أو أنزلتَه في كتابِك أو علَّمتَه أحدًا من خلقِك أو استأثرتَ به في علمِ الغيبِ عندك أن تجعلَ القرآنَ ربيعَ قلبي ونورَ صدري وجلاءَ حزَني وذهابَ همِّي ’’اے اللہ! یقینا میں تیرا بندہ ہوں اورتیرے ہی بندے اورتیری ہی کنیز کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری و ساری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر انصاف ہے، میں تیرے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو نے اسے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنے کو) خاص کیا ہے (میں درخواست کرتا ہوں) کہ تو قرآن مجید کو میرے دل کی بہار بنا دے اور میرے سینے کا نور، میرے غموں کا علاج اور میرے فکروں کاتریاق بنا دے۔‘‘[1] 2. اللهم إني أعوذ بك من الهمِّ و الحزَنِ، و العجزِ و الكسلِ، و الجُبنِ و البُخلِ، و ضَلَعِ الدَّينِ و غَلَبَةِ الرجالِ ’’اے اللہ! میں پناہ چاہتا ہوں تیرے ذریعے سے پریشانی اور غم سے، عاجز ہو جانے اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اورلوگوں کے تسلط سے۔‘‘[2] مشکلات حل ہونے کی دعا اللَّهمَّ لا سَهْلَ إلّا ما جعَلْتَه سَهلًا وأنتَ تجعَلُ الحَزْنَ إذا شِئْتَ سَهلًا [1] مسند أحمد: 391/1، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، حدیث: 6369۔