کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 317
کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کی بہتری کا جو اس کے بعد آنے والی ہے اور میں اس رات کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس کے بعد آنے والی رات کے شر سے، اے میرے رب! میں کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘[1] 6. جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی تو اس نے اس دن کا شکر ادا کردیا اور جس نے شام کے وقت یہ دعا پڑھی تو اس نے اس رات کا شکر ادا کردیا۔ صبح کے وقت پڑھیے اللهُمَّ ما أصبحَ بي من نِعْمَةٍ أوْ بِأَحَدٍ مَنّ خَلْقِكَ، فَمِنْكَ وحْدَكَ لا شريكَ لكَ، فلكَ الحمدُ ولكَ الشّكْرُ ’’اے اللہ! صبح کے وقت مجھ پر یاتیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لیے سب تعریف ہے اورتیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘ 7. شام کے وقت پڑھیے اللَّهمَّ ما أمسی بي مِن نعمةٍ أو بأحَدٍ مِن خَلْقِكَ فمنكَ وحدَكَ لا شريكَ لكَ فلَكَ الحمدُ ولكَ الشُّكرُ ’’اے اللہ! شام کے وقت مجھ پر یاتیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ تو اکیلا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لیے سب تعریف ہے اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘[2] 8. صبح ایک بار پڑھیے اللهمَّ بِكَ أَصْبَحْنا، وبِكَ أَمْسَيْنا، وبِكَ نَحْيا، وبِكَ نَمُوتُ، وإليْكَ النشورُ [1] صحیح مسلم، حدیث: 2723۔ [2] السنن الکبرٰی للنسائي، حدیث: 9835۔