کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 310
بیمار پرسی کی فضیلت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی آدمی اپنے بیمار مسلمان بھائی کی مزاج پرسی کے لیے جاتا ہے تو وہ (اس کے پاس) بیٹھنے تک جنت کے میووں میں چلتا ہے۔ جب وہ بیٹھتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ اگر صبح کا وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اوراگر شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔‘‘ [1] عیادت کے وقت مریض کے لیے دعائیں 1. لا بَأْسَ طَهُورٌ إنْ شاءَ اللَّهُ ’’کوئی حرج نہیں اگر اللہ نے چاہا تو یہ بیماری (گناہوں سے) پاک کرنے والی ہے۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ آپہنچا ہو اور سات دفعہ یہ دعا پڑھے تو اسے عافیت مل جاتی ہے۔‘‘ 2. أسألُ اللهَ العظيمَ ربَّ العرشِ العظيمِ أنْ يَشفيَكَ ’’میں سوال کرتا ہوں بڑی عظمت والے اللہ سے جو عرشِ عظیم کا رب ہے کہ وہ تمھیں شفا عطا فرمائے۔‘‘[3] زندگی سے ناامید مریض کی دعا 1. اللهمَّ اغفِرْ لي وارْحمْني، وأَلحِقْني بالرَّفيقِ الأَعْلى ’’اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملادے۔‘‘[4] 2. نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے وقت اپنے ہاتھوں کو پانی میں ڈال کر اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے اور یہ دعاپڑھتے تھے: لا إلَهَ إلّا اللَّهُ، إنَّ لِلْمَوْتِ سَكَراتٍ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، یقینا موت کی کئی سختیاں ہیں۔‘‘[5] 3. لا إلهَ إلّا اللهُ واللهُ أكبرُ لا إلهَ إلّا اللهُ وحدَه لا إلهَ إلّا اللهُ [1] جامع الترمذي، حدیث: 969، وسنن ابن ماجہ، حدیث: 1442۔ [2] صحیح البخاري، حدیث: 5656۔ [3] جامع الترمذي، حدیث: 2083۔ [4] صحیح البخاري، حدیث: 5674۔ [5] صحیح البخاري، حدیث: 4449۔