کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 308
2. اللَّهُمَّ أغِثْنا، اللَّهُمَّ أغِثْنا، اللَّهُمَّ أغِثْنا ’’اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔‘‘[1] 3. اللهمَّ اسْقِ عبادَك وبهائمَك وانشُرْ رحمتَك وأَحْيِ بلدَك المَيِّتَ ’’اے اللہ! اپنے بندوں اور اپنے چوپایوں کو پانی پلا اور اپنی رحمت پھیلا دے اور اپنے مردہ(بنجر، بے آباد) شہر کو زندہ کر دے۔‘‘[2] آندھی کی دعائیں 1. اللہم انی اسئلک خیرہا واعوذبک من شرہا ’’اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘[3] 2. اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَها، وَخَيْرَ ما فِيها، وَخَيْرَ ما أُرْسِلَتْ به، وَأَعُوذُ بكَ مِن شَرِّها، وَشَرِّ ما فِيها، وَشَرِّ ما أُرْسِلَتْ به ’’اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس چیز کی بھلائی کا جو اس میں ہے اور اس چیز کی بھلائی کا جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اور میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے اور اس چیز کے شر سے جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے۔‘‘[4] بادل گرجنے کی دعا سبحان الَّذي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ والْمَلائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ ’’پاک ہے وہ ذات کہ گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے (تسبیح [1] صحیح البخاري، حدیث: 1014۔ [2] سنن أبي داود، حدیث: 1176۔ [3] سنن أبي داود، حدیث: 5099,5097، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا آندھی دیکھتے تو فکرمندی کے آثار چہرۂ انور پر ظاہر ہوتے، و جہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’مجھے یہ اندیشہ بے چین کرتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، بلاشبہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے سے عذاب دیا گیا تھا۔ اور ایک قوم نے عذاب دیکھا اور اس قوم کے لوگ کہنے لگے: یہ بادل ہے، اس میں بارش ہوگی۔‘‘ سنن أبي داود، حدیث: 5098۔ [4] صحیح مسلم، حدیث: 899۔