کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 306
’’وہ ہستی (اللہ تعالیٰ) تم سے محبت کرے جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی۔‘‘[1] حسن سلوک کرنے والے کے لیے دعا: جزاكَ اللهُ خيرًا ’’اللہ تمھیں (اس سے) زیادہ بہتر بدلہ دے۔‘‘[2] برکت کی دعا دینے والے کو کیا کہا جائے؟: بارك اللهُ فيك ’’اللہ تجھے برکت دے۔‘‘ کہنے والے کو کہا جائے:و فيك بارك اللهُ ’’اور اللہ تعالیٰ تجھے بھی بابرکت کر دے۔‘‘[3] مال و دولت خرچ کرنے والے کے لیے دعا بارَك اللهُ لكَ في أهلِكَ ومالِكَ ’’اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت عطا فرمائے۔‘‘[4] دوران مجلس کی دعا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک ہی مجلس میں اٹھنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سو دفعہ یہ دعا کرتے ہوئے گن لیا جاتا تھا: ربِّ اغفِرْ لي وتُبْ عليَّ إنك أنت التوابُ الغفورُ ’’اے میرے رب! مجھے معاف فرما اورمیری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا، انتہائی معاف کرنے والا ہے۔‘‘[5] کفارۂ مجلس کی دعا سُبحانَكَ اللهمَّ وبحَمدِكَ أشهَدُ أنْ لا إلهَ إلّا أنتَ أَستَغفِرُكَ وأتوبُ إليكَ ’’اے اللہ! تو اپنی تعریفوں سمیت پاک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں [1] سنن أبي داود، حدیث: 5125۔ [2] جامع الترمذي، حدیث: 2035، وصحیح الجامع الصغیر، حدیث: 6368۔ [3] شرح صحیح الأدب المفرد للألباني، حدیث: 848۔ [4] صحیح البخاري، حدیث: 2049۔ [5] جامع الترمذي، حدیث: 3434۔