کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 297
برا خواب آئے یا اچانک آنکھ کھل جائے تو کیا کرے؟ ٭ تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھوکے۔ ٭ شیطان اوراپنے اس خواب کی برائی سے تین دفعہ اللہ کی پناہ مانگے۔ ٭ یہ خواب کسی کو نہ سنائے۔ ٭ جس پہلو لیٹا ہو، اسے بدل دے۔[1] ٭ اگر چاہے تو اٹھ کر نماز پڑھے۔[2] ٭ جو شخص رات کو کسی وقت بیدار ہو کر یہ کلمات کہے تو اُسے بخش دیا جاتا ہے۔اگر کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہوتی ہے، پھر اگر وضو کرکے نماز پڑھے تو اُس کی نماز قبول ہوتی ہے۔ لا إلهَ إلّا اللهُ وحدَه لا شريكَ له له الملكُ وله الحمدُ وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ ، سبحانَ اللهِ والحمدُ للهِ ولا إلهَ إلّا اللهُ واللهُ أكبرُ ولا حولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللهِ العليِّ العظيمِ، رَبِّ اغْفِرْ لي ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہرچیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اللہ پاک ہے اورسب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوراللہ سب سے بڑا ہے۔ اور (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت مگر بلندی اور عظمت والے اللہ ہی کی توفیق سے۔ اے میرے رب! مجھے بخش دے۔‘‘[3] نیند سے بیدار ہونے کی دعائیں: نیند سے بیدار ہونے والا اپنا ناک تین دفعہ جھاڑے کیونکہ شیطان ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے۔[4] 1. الحَمْدُ لِلَّهِ الذي أحْيانا بَعْدَ ما أماتَنا وإلَيْهِ النُّشُورُ ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا، بعد اس کے کہ اس نے ہمیں ماردیا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔‘‘[5] [1] صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 2262,2261۔ [2] صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 2263۔ [3] صحیح البخاري، التھجد، حدیث: 1154، وسنن ابن ماجہ، الدعاء، حدیث: 3878 واللفظ لہ۔ [4] صحیح مسلم، الطھارۃ، حدیث: 238۔ [5] صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6312، وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2711