کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 288
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جب میں قبرستان میں جاؤں تو کون سی دعا پڑھوں؟ آپ نے دعا سکھائی (جو چند سطروں کے بعد آگے آرہی ہے۔)[1] اس سے بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کا قبرستان جانا جائز ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ [2] معلوم ہوا کہ عورتوں کے لیے قبروں کی بکثرت زیارت تو منع ہے البتہ کبھی کبھار اپنے عزیز و اقارب کی قبروں کی زیارت کے لیے جاسکتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مردوں کو برا نہ کہو جو اعمال انھوں نے کیے تھے وہ انھیں مل گئے۔‘‘ [3] زیارت قبور کی دعا: جو شخص قبروں کی زیارت کرنے جائے وہ یہ دعا پڑھے: السَّلامُ على أهلِ الدِّيارِ مِن المُؤمِنينَ المُسلِمينَ ويرحَمُ اللهُ المُستقدِمينَ منّا والمُستأخِرينَ وإنّا إنْ شاء اللهُ بكم لاحقونَ. أسألُ اللَّهَ لنا ولَكم العافيةَ ’’مومن اور مسلمان گھر والوں پر سلامتی ہو۔ ہم میں سے آگے جانے والوں اور پیچھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور اگر اللہ نے چاہا تو یقینا ہم بھی عنقریب تم سے ملنے والے ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمھارے لیے عافیت کی دعا کرتا ہوں۔‘‘[4] [1] صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 974-(103)۔ [2] [حسن] جامع الترمذي، الجنائز، حدیث: 1056، وسندہ حسن، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1393۔ [4] صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: -103 (974، 975)۔