کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 245
دی جانے والی اذان کا ثبوت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی نہیں ملتا، لہٰذااس سے بچنا چاہیے۔ جمعہ کے دن اذانِ جمعہ منبر کے پاس ہونی چاہیے۔[1] وضاحت: جمعے کے دن اذان عثمانی کا پس منظر یہ ہے کہ عہد نبوت میں مدینہ منورہ اور اس کی آبادی کا حجم نسبتاً مختصر تھا۔ لوگوں کو آسانی سے اذان کا علم ہو جاتا تھا۔ عہد عثمانی میں جب آبادی زیادہ ہو گئی تو تمام لوگ اذان کی آواز سن نہیں پاتے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ کئی لوگ مسجد میں بروقت پہنچنے سے رہ جاتے تھے۔ اس کا انتظامی حل یہ نکالا گیا کہ پہلے مسجد سے باہر بازار کے اندر، زوراء کے مقام پر اذان دی جاتی، اس سے کچھ ہی دیر بعد مسجد نبوی میں (دوسری) اذان ہو جاتی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام بدعت نہیں ہے ۔ لیکن اس پر عمل ان اسباب و حالات کے ساتھ مشروط ہو گا جن کی بنا پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس اذان کی ابتدا کی تھی اور وہ لوگوں کی کثرت اور ان کے گھروں کا مسجد سے دور ہونا ہے جس کی و جہ سے اذانِ مسجد کی آواز ان تک نہیں پہنچتی تھی تو انھوں نے لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ، یعنی بازار میں انھیں مطلع کرنے کے لیے اصل اذان سے کچھ دیر پہلے اس کا سلسلہ چلایا۔ آج کے زمانے میں اگر کوئی اس پر عمل کرنا چاہتا ہے تو انھی اسباب و شرائط اور ضرورت کو مدنظر رکھ کر اس پر عمل کرے، جبکہ آج کل عام طور پر جمعے کے دن مساجد میں پہلی اذان کے نام سے دی جانی والی اذان مذکورہ اسباب و شرائط نہ ہونے کی و جہ سے نہ تو اذانِ عثمانی ہے، نہ اذان محمدی، اس لیے اسے مسنون اذان کہنا مشکل ہے۔[2] [1] دیکھیے المعجم الکبیر للطبراني: 147,146/7، حدیث: 6646 ورجالہ ثقات۔ [2] تفصیل کے لیے دیکھیے: الأجوبۃ النافعۃ، ص: (14-9)۔