کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 240
اِس کامطلب یہ ہے کہ خطبے کے وقت گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد ہاتھ یا کپڑا لپیٹ کر اور رانوں کو پیٹ سے ملا کر بیٹھنا ممنوع ہے۔ اس طرح بیٹھنے سے عموماً نیند آجاتی ہے، پھر آدمی خطبہ نہیں سن سکتا، علاوہ ازیں اس حالت میں آدمی اکثر گر پڑتا ہے، نیز تہبند بندھے ہونے کی صورت میں بے ستر ہو جانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ ٭ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔ جو شخص یہ کہے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، اس نے غلط بیانی کی ہے۔[1] ٭ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:اس خبیث کی طرف دیکھو، بیٹھے ہوئے خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ ’’اور جب انھوں نے دیکھا (سامانِ) تجارت یا کوئی تماشا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو (خطبے میں)کھڑا ہی چھوڑ دیا۔‘‘ [2] معلوم ہوا کہ بیٹھ کر خطبہ دینا خلاف سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔ اس کے دونوں سرے آپ نے کندھوں کے درمیان چھوڑ رکھے تھے۔[3] ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن مسجد میں نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنانے سے منع فرمایا۔[4] ٭ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید سردی میں جمعے کی نماز جلدی پڑھتے تھے اور شدید گرمی میں دیر سے پڑھتے تھے۔[5] ٭ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہوتی اور غصہ سخت ہو جاتا یعنی آپ جوش میں آجاتے تھے۔ اور ایسا لگتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی
[1] صحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: 862۔ [2] الجمعۃ 11:62، وصحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: 864۔ [3] صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1359۔ [4] [حسن] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 1079، وسندہ حسن، وجامع الترمذي، الصلاۃ، حدیث: 322۔ امام ترمذی نے اسے حسن جبکہ امام ابن خزیمہ نے حدیث: 1816 میں اسے صحیح کہا ہے۔ مسند أحمد: 179/2، وأطراف المسند: 32/4، حدیث: 517۔ [5] صحیح البخاري، الجمعۃ، حدیث: 906۔