کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 223
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (کل) تیرہ رکعات پڑھتے اور ان میں پانچ رکعات وتر پڑھتے تھے (اور ان پانچ وتروں میں)کسی رکعت میں (تشہد کے لیے )نہ بیٹھتے بس آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔[1] معلوم ہوا کہ وتروں کی پانچوں رکعتوں کے درمیان تشہد کے لیے کہیں نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ پانچوں رکعتیں پڑھ کر قعدہ میں التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دینا چاہیے۔ تین وتروں کی قراء ت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت وتر میں ﴿ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ﴾ (سورئہ اعلیٰ) دوسری میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَى ﴾ (سورئہ کافرون) اور تیسری میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ (سورئہ اخلاص) پڑھتے تھے۔[2] نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک رات میں دو بار وتر پڑھنا جائز نہیں۔‘‘ [3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین وتر نہ پڑھو۔ پانچ یا سات وتر پڑھو اور مغرب کی مشابہت نہ کرو۔‘‘ [4] معلوم ہوا کہ وتر میں نماز مغرب کی مشابہت نہیں ہونی چاہیے۔ تین وتر پڑھنے ہوں تو ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ یا پھر دو تشہد اور دو سلام کے ساتھ پڑھے جائیں۔ ان دونوں طریقوں میں مغرب کی نماز سے مشابہت نہیں ہوتی۔ نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’رات کی اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔‘‘ [5] اور فرمایا: ’’وتر آخر رات میں ایک رکعت ہے۔‘‘ [6] نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص آخر رات میں نہ اٹھ سکے تو وہ اول شب وتر پڑھ لے اور جو آخر رات [1] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 737، یعنی انھی تیرہ رکعات میں پانچ رکعات وتر بھی شامل ہوتے۔ [2] [حسن] السنن الکبرٰی للبیھقي: 38/3، الصلاۃ، حدیث: 4856۔ امام حاکم اور امام ذہبی نے المستدرک: 305/1 520/2, میں، اور امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 675 [وسندہ حسن] میں اسے صحیح کہا ہے۔ [3] [صحیح] سنن أبي داود، الوتر، حدیث: 1439، امام ابن خزیمہ نے حدیث: 1101 میں اور امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 671 میں اسے صحیح اور حافظ ابن حجر نے فتح الباري: 481/2 میں حسن کہا ہے۔ [4] [صحیح] سنن الدارقطني، الوتر: 27,25/2، حدیث: 2,1، وسندہ صحیح، امام حاکم اور امام ذہبی نے المستدرک: 304/1 میں، اور امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 680 میں اسے صحیح کہا ہے۔ [5] صحیح البخاري، الصلاۃ، حدیث: 472، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 751۔ [6] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 752۔