کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 204
نے نماز مکمل فرمائی تو آپ نمازیوں کی طرف پھرے، اچانک آپ نے لوگوں کے پیچھے دو آدمی دیکھے جنھوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’انھیں میرے پاس لے آؤ۔‘‘[1] علاوہ ازیں ان غیر ثابت الفاظ میں بھی اجتماعی دعا کا ذکر نہیں ہے۔ ٭ سیدنا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم دعا کرتے تھے اور (آخر میں )اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے منہ پر پھیرتے تھے۔[2] تاہم اس میں بھی جماعت کے بعد اجتماعی دعا کا ذکر نہیں۔ نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کے بارے میں پیش کی جانے والی تقریباً تمام روایات نہ صرف سخت ضعیف ہیں بلکہ ان میں اجتماعی دعا کا ذکر تک نہیں ہے اور بعض احادیث کا موقع محل تو کچھ اور ہے مگر انھیں زبردستی زیر بحث اجتماعی دعا کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے حکیم صادق سیالکوٹی رحمہ اللہ کی کتاب ’’صلاۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کا وہ نسخہ ملاحظہ فرمائیں جو شیخ عبدالرؤف بن عبدالحنان کی تخریج و تعلیق سے آراستہ ہے۔ چند قابلِ غور امور: کیا فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا بدعت ہے؟ اس سلسلے میں درج ذیل امور قابل غورہیں: ٭ ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا ایک مستقل عبادت ہے جو غیرمؤقت ہے، یعنی کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے، البتہ جن مواقع پر اس کا اہتمام کرنا سنت سے ثابت ہے انھیں ترجیح دی جائے گی۔ ٭ جو عبادت ہر وقت جائز ہو اگر آپ اپنی سہولت کے لیے اسے کسی خاص وقت میں روزانہ کرنا چاہتے ہیں تو اصولی طور پر یہ بھی جائز ہے، ارشاد نبوی ہے: ’’اللہ تعالیٰ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔‘‘ [3] لیکن کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ تمام جائز اوقات چھوڑ کر صرف ایک وقت کو عملاً فرض کا درجہ دے کر دوسرے مسلمانوں کو اس کا پابند بنائے کیونکہ جب شریعت نے اس وقت کو مسلمانوں پر مقرر نہیں کیا تو یہ کیوں کرے؟ مثلاً: اگر مختلف افراد روزانہ مختلف اوقات میں قرآن پاک کی مختلف سورتیں پڑھتے ہیں [1] [حسن] جامع الترمذي، الصلاۃ، حدیث: 219، وسندہ حسن۔ [2] الأدب المفرد للبخاري: 315/1، اس کی سند حسن لذاتہ بلکہ صحیح بخاری کی شرط پر ہے۔ [3] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 782۔