کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 200
اور اندھیری رات کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے (جادو، ٹونا کرنے، کرانے والوں کے شر سے) اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے ۔‘‘ [1] بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَـٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾ ’’اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بہت رحم کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے بادشاہ کی ۔لوگوں کے (اصل) معبود کی۔اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔ وہ جو لوگوں کے سینوں (دلوں)میں وسوسے (اور برے خیالات) ڈالتا ہے۔ جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘ [2] ٭ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو اسے بہشت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے کوئی چیز نہیں روکتی۔‘‘ [3] مطلب یہ ہے کہ آیۃ الکرسی پڑھنے والا موت کے بعد سیدھا جنت میں جائے گا۔ آیۃ الکرسی اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ﴿٢٥٥﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے۔ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ وہ اونگھتا ہے نہ سوتا ہے۔ [1] الفلق 5-1:113۔ [2] الناس 6-1:114۔ [3] [حسن] السنن الکبرٰی للنسائي، عمل الیوم واللیلۃ، حدیث: 30/6، حدیث: 9928، وسندہ حسن، امام ابن حبان نے اور امام منذری نے الترغیب: 453/2 میں اسے صحیح کہا ہے۔