کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 192
سلام پھیرنے کے بعد بھی، وہ جس صورت پر بھی عمل کرے گا، ان شاء اللہ العزیز جائزہوگا۔ واللّٰہ أعلم۔ سجدئہ سہو سلام سے پہلے یا بعد میں کرنے کا ذکر تو احادیث میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں لیکن صرف ایک ہی طرف سلام پھیر کر سجدہ کرنا اور پھر التحیات پڑھ کر سلام پھیرنا سنت سے ثابت نہیں۔ اگر مقتدی سے نماز میں کوئی بھول چوک ہوجائے اور شروع ہی سے وہ امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہے تو اس کے لیے سجدۂ سہو نہیں، بلکہ اس پر امام کی اقتدا واجب ہے۔ لیکن مسبوق، یعنی جو بعد میں جماعت میں شامل ہوا ہو، وہ اپنی نماز کا فوت شدہ حصہ پورا کرنے کے بعد سجدۂ سہو کرے۔ اسی طرح اگر کسی نے چار رکعتوں والی نماز کی آخری دو رکعتوں میں یا صرف ایک ہی رکعت میں بھولے چوکے یا عمداً ایک یا چند آیات یا کوئی سورت پڑھ لی تو اس کے لیے سجدۂ سہو مشروع نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی آخری دو رکعات میں بھی سورئہ فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھ لیا کرتے تھے۔ مزید برآں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امیر کی تعریف فرمائی جو اپنی نماز کی تمام رکعات میں سورئہ فاتحہ کے بعد ﴿ قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴾ پڑھا کرتے تھے۔ اگر کسی نے بھول کر رکوع یا سجدے میں قرآن کی قراء ت کی تو اس کے لیے سجدۂ سہو کرنا ضروری ہے کیونکہ رکوع اور سجدے میں قراء ت قرآن جائز نہیں۔[1] اور اگر رکوع میں سجدے کی تسبیحات پڑھ لیں یا رکوع اور سجدے دونوں کی تسبیحات پڑھ لیں اور سجدے میں بھی اسی طرح کیا تو سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں۔ واللّٰہ أعلم۔ [1] صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 479۔