کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 169
’’میں نے تیس سے زائد فرشتے دیکھے جو ان کلمات کا ثواب لکھنے میں جلدی کر رہے تھے۔‘‘ [1] ٭ سیدناعبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اٹھتے تو (قومے میں یہ دعا)پڑھتے: (( سمعَ اللَّهُ لمن حمدَهُ اللَّهمَّ ربَّنا لَكَ الحمدُ ملءَ السَّمواتِ وملءَ الأرضِوما بيْنَهما، ومِلءَ ما شِئتَ من شيءٍ بعدُ)) ’’اللہ نے سن لی اس (بندے) کی بات جس نے اس کی تعریف کی۔ اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے آسمانوں کے بھراؤ کے برابر، زمین کے بھراؤ کے برابر، دونوں کے درمیانی خلا کے بھراؤ کے برابر اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو ان کے بعد تو چاہے۔‘‘ [2] ٭ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے: رَبَّنا لكَ الحَمْدُ مِلْءُ السَّمَواتِ والأرْضِ، ومِلْءُ ما شِئْتَ مِن شيءٍ بَعْدُ، أهْلَ الثَّناءِ والْمَجْدِ، أحَقُّ ما قالَ العَبْدُ، وكُلُّنا لكَ عَبْدٌ: اللَّهُمَّ لا مانِعَ لِما أعْطَيْتَ، ولا مُعْطِيَ لِما مَنَعْتَ، ولا يَنْفَعُ ذا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ ’’اے ہمارے پروردگار! ہر قسم کی تعریف صرف تیرے لیے ہے، آسمانوں اور زمین کے بھراؤ کے برابر اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو ان کے بعد تو چاہے۔ اے تعریف و بزرگی والے! بندے نے جو تیری تعریف اور بزرگی کی اس کا تو ہی حق دارہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔ اے اللہ ! کوئی روکنے والا نہیں وہ چیز جو تو نے لی اور کوئی دینے والا نہیں اس چیز کو جو تو نے روک دی اور دولت مند (صاحب نصیب) کو یہ (نصیب اور) دولت مندی تیرے حضور کچھ نفع نہیں دے سکتی۔‘‘[3] نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قومے میں کبھی یہ دعا بھی فرماتے: اللَّهُمَّ لكَ الحَمْدُ مِلْءُ السَّماءِ، ومِلْءُ الأرْضِ، ومِلْءُ ما شِئْتَ مِن شيءٍ بَعْدُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بالثَّلْجِ والْبَرَدِ، والْماءِ البارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ [1] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 799۔ [2] صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 478,476۔ [3] صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 477۔