کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 166
ظن و احتمال کی بنیاد پر کہا جاتا ہے۔ 2. اس کے برعکس ایسے صریح دلائل موجود ہیں جو (ہر صاحب استطاعت کے لیے) قیام اور قراء تِ فاتحہ دونوں کو لازم قرار دیتے ہیں۔ 3.قاعدہ یہ ہے کہ جب احتمال اور صراحت آمنے سامنے آجائیں تو احتمال چھوڑ دیا جائے گا اور صراحت پر عمل کیا جائے گا۔ 4.سیدھی سی بات ہے کہ اس حدیث شریف کا مرکزی نکتہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل ہے کہ پہلے وہ حالت رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہوئے، پھر اسی کیفیت میں آگے بڑھتے ہوئے صف میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اسی فعل سے روکا تھا۔ جماعت میں شامل ہونے کا شوق بجا مگر اس شوق کی تکمیل کا یہ طریقہ بہرحال مستحسن نہ تھا۔ 5. لہٰذااس حدیث کو اس کے اصل نکتے سے ہٹا کر قیام اور قراء تِ فاتحہ سے خالی رکعت کے جواز پر لانا صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ واللّٰہ أعلم۔ اس سلسلے میں ایک استدلال یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کا موقع ومحل چونکہ قیام ہے، لہٰذاصرف وہی نمازی سورۂ فاتحہ پڑھے گا جس نے امام کو حالت قیام میں پایا اور جس نے اسے حالت رکوع میں پایا، اس کے حق میں سورۂ فاتحہ کی قراء ت ساقط ہو جائے گی کیونکہ اس کے لیے اس کی قراء ت کا موقع ومحل باقی نہیں رہا۔ یہ استدلال بھی محل نظر ہے، نقل وعقل دونوں اس کا انکار کرتے ہیں، مثلاً: ٭ امیرالمومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کتاب الٔاذان میں ایک باب (95) یوں قائم کیا ہے: (( باب وجوب القراءة للامام والماموم في اصلوات كلها في الحضر والسفر وما يجهر فيها وما يخافت )) ’’نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا ہر نمازی پر واجب ہے، خواہ امام ہو یا مقتدی، مقیم ہو یا مسافر، نماز سری ہو یا جہری۔‘‘ ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((لا صَلاةَ لِمَن لم يقرَأْ بفاتِحَةِ الكِتابِ)) ’’جس نے (نماز میں) سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز ہی نہیں۔‘‘ [1] اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ رہ جائے تو ساری نماز نہیں ہوتی کیونکہ سورۂ فاتحہ پڑھنا نماز کا رکن ہے اور رکن کسی بھی مقام سے رہ جائے، نماز ناقص ہو جاتی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: (( مَن صلّى صلاةً لَمْ يقرَأْ فيها بفاتحةِ الكِتابِ فهي خِداجٌ فهي خِداجٌ غيرُ تمامٍ)) ’’جس نے نماز میں [1] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 756، وصحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 394۔