کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 160
اس روایت میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے روایت کرتے ہیں۔ مُدَلِّس راوی کی عن والی روایت تفرد کی صورت میں ضعیف ہوتی ہے۔ مشہور محدث شیخ المعلمی الیمانی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب التنکیل میں اس روایت کو سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے معلول (ضعیف) قرار دیا ہے۔[1] تیسری حدیث: سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے، ((ثمَّ لا يعودُ)) پھر نہیں اٹھاتے تھے۔[2] تجزیہ: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اسے سفیان بن عیینہ، امام شافعی، امام بخاری کے استاد امام حمیدی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم جیسے ائمۂ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یزید بن ابی زیاد پہلے ((لا يعودُ))نہیں کہتا تھا، اہل کوفہ کے بڑھانے پر اس نے یہ الفاظ بڑھا دیے۔ مزید برآں اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف تھا اور وہ شیعہ بھی تھا۔ آخری عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا، یہ مدلس بھی تھا۔ علاوہ ازیں رفع الیدین کی احادیث اولیٰ ہیں کیونکہ وہ مثبت ہیں اور نافی پر مثبت کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ ایک ضروری وضاحت: بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ منافقین آستینوں اور بغلوں میں بت رکھ کر لاتے تھے، بتوں کو گرانے کے لیے رفع الیدین کیا گیا، بعد میں ترک کر دیا گیا۔ لیکن کتب احادیث میں اس کا کہیں کوئی ثبوت نہیں ہے، البتہ یہ قول جہلاء کی زبانوں پر چڑھا ہوا ہے۔ درج ذیل حقائق اس قول کی کمزوری عیاں کر دیتے ہیں: ٭ مکے میں بت تھے مگر جماعت فرض نہیں تھی۔ مدینے میں جماعت فرض ہوئی مگر بت نہیں تھے، جب صورتحال یہ تھی تو پھر منافقین مدینہ کن بتوں کو بغلوں میں دبائے مسجد میں چلے آتے تھے؟ ٭ تعجب ہے کہ جاہل لوگ اس گپ کو صحیح مانتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب بھی مانتے ہیں، حالانکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہوتے تو رفع الیدین کرائے بغیر بھی جان سکتے تھے کہ فلاں فلاں شخص مسجد میں بت لے آیا ہے۔ [1] دیکھیے التنکیل: 25/2۔ [2] [ضعیف] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 749، یہ روایت یزید بن ابی زیاد کے ضعف اور اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے۔