کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 141
سینے پر ہاتھ باندھیے: ٭ پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھ لیں۔ سیدنا ہُلب طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے دیکھا۔[1] سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی (کی پشت)، اس کے جوڑ اور کلائی پررکھا۔[2] ہمیں بھی دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر اس طرح رکھنا چاہیے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، جوڑ اور کلائی پر آ جائے اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھے جائیں تا کہ تمام روایات پر عمل ہوسکے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا: ’’نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں۔‘‘[3] رہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ روایت کہ سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر زیر ناف رکھا جائے۔[4] تو اسے امام بیہقی اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہما نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے۔ عورتوں اور مردوں کے طریقۂ نماز میں کوئی فرق نہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نماز اسی طرح پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔‘‘ [5] یعنی ہو بہو ٹھیک میرے طریقے کے مطابق سب عورتیں اور سب مرد نماز پڑھیں۔ پھر بعض لوگوں کا اپنی طرف سے یہ حکم لگانا کہ عورتیں سینے پر ہاتھ باندھیں اور مرد زیر ناف اور عورتیں سجدہ کرتے وقت زمین پر کوئی اور ہیئت اختیار کریں اور مرد کوئی اور…یہ دین میں مداخلت ہے۔ یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے شروع کر کےالسَّلامُ عليكم ورَحْمةُ اللهِ کہنے تک عورتوں اور مردوں کے لیے ایک ہی ہیئت اور ایک ہی شکل کی نماز [1] [حسن] مسند أحمد: 226/5، وسندہ حسن۔ [2] [صحیح] سنن النسائي، الافتتاح، حدیث: 890، وسندہ صحیح وھو حدیث محفوظ، امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 485 میں اور امام ابن خزیمہ نے حدیث: 480میں اسے صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 740۔ [4] [ضعیف] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 756، اس روایت کی سند عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی الواسطی کے ضعیف ہونے اور زیاد بن زید کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [5] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 231۔