کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 134
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں طرف بیٹھ گئے اور بیٹھ کر نماز ادا کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرتے۔ یہ ظہر کی نماز تھی۔[1] ٭ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور انھیں نماز پڑھاتے۔[2] یہ نماز سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے نفل اور مقتدیوں کے لیے فرض بن جاتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں امام اور مقتدی کی نیت کا مختلف ہونا جائز ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ فرض نماز پڑھ لینے کے بعد دوسروں کو بھی (وہی) نماز پڑھا سکتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تھے۔ وہ آدمی اکیلا نماز پڑھنے لگا۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو اس پر صدقہ کرے اور اس آنے والے کے ساتھ باجماعت نماز پڑھے؟‘‘ [3] [1] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 713، وصحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 418۔ [2] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 701,700، و صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 465۔ [3] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 574، وسندہ صحیح، وجامع الترمذي، الصلاۃ، حدیث: 220، امام ترمذی نے، امام حاکم نے المستدرک: 209/1 میں اور امام ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے۔