کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 107
آؤ۔ تحقیق نماز کھڑی ہو گئی۔ تحقیق نماز کھڑی ہوگئی۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور تکبیر کے ایک ایک بار کہیں۔[2] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور تکبیر کے کلمات ایک ایک بار کہے جاتے تھے، سوائے اس کے کہ مؤذن قد قامتِ الصَّلاةُ دو بار کہتا تھا۔[3] دوہری اذان: اذان میں شہادت کے چاروں کلمات پہلے دھیمی آواز سے کہنا اور پھر دوبارہ بلند آواز سے کہنا ترجیع کہلاتا ہے۔ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی اور فرمایا کہ (اذان اس طرح) کہو: اللَّهُ أَكْبرُ، اللَّهُ أَكْبرُ اللَّهُ أَكْبرُ، اللَّهُ أَكْبرُ أشهدُ أن لا إلَهَ إلّا اللَّهُ،  أشهدُ أن لا إلَهَ إلّا اللَّهُ أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللَّهِ، أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللَّهِ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دوبارہ زیادہ بلند آواز کے ساتھ کہو: أشهدُ أن لا إلَهَ إلّا اللَّهُ،  أشهدُ أن لا إلَهَ إلّا اللَّهُ أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللَّهِ، أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللَّهِ حَيَّ على الصَّلاةِ حَيَّ على الصَّلاةِ حَيَّ على الفلاحِ حَيَّ على الفلاحِ اللهُ أكبَرُ اللهُ أكبَرُ لا إلهَ إلّا اللهُ[4] [1] [حسن] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 499، وسندہ حسن، ومسند أحمد: 43/4، امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 290، 291 میں اسے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 606,605، وصحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 378، وسنن النسائي، حدیث: 628 وسندہ صحیح۔ [3] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 511,510، وھو حدیث صحیح، وسنن النسائي، الأذان، حدیث: 629، امام حاکم اور امام ذہبی نے المستدرک: 198,197/1 میں اور امام نووی نے المجموع: 90/3 میں اسے صحیح کہا ہے۔ [4] صحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 379، وسنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 503۔