کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 106
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا کہ حَيَّ على الصَّلاةِ کی بجائے الصلاةَ في الرِّحالِ یا صلُّوا في بيوتِكُم ’’اپنے گھروں میں نماز ادا کرو۔‘‘ کہے اور فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ ہرچند جمعہ فرض ہے مگر مجھے پسند نہیں کہ تم کیچڑ اور مٹی میں (مسجد کی طرف)چلو۔[1] اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے کلمات میں الصَّلاةُ خيرٌ منَ النَّومِ کہنا یا بارش وغیرہ کی صورت میں الصلاةَ في الرِّحالِ وغیرہ کہنا اذان میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں بلکہ عہد نبوت کی سنت ہے، لہٰذااسے اذان کے اندر من پسند اضافوں کی دلیل بنانا درست نہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مکمل اذان سے فراغت کے بعد ألا! الصلوا في الرِّحالِ یا ألا! الصلوا في الرِّحالِكم کہا جائے۔[2] وضاحت: اذان کے درمیان حَيَّ على الصَّلاةِ کی جگہ یا اس کے بعد مذکورہ کلمات یا اس کے ہم معنٰی ماثورہ کلمات کہنا بھی ثابت ہے۔ دیکھیے: فتاوی الدین الخالص: 245/وتحفۃ الأحوذي: 292/ اقامت کے طاق کلمات اللَّهُ أَكْبرُ، اللَّهُ أَكْبرُ أشهدُ أن لا إلَهَ إلّا اللَّهُ أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللَّهِ، حَيَّ على الصَّلاةِ ،حَيَّ على الفلاحِ قد قامتِ الصَّلاةُ، قد قامتِ الصَّلاةُ اللَّهُ أَكْبرُ، اللَّهُ أَكْبرُ لا إلَهَ إلّا اللَّهُ ’’اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کی طرف آؤ۔ کامیابی کی طرف [1] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 668، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 699۔ [2] صحیح البخاري الأذان، حدیث: 666۔