کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 102
قضائے عمری والے مسئلے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، لہٰذایہ بدعت ہے۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں فرمایا: ’’آج رات ہماری حفاظت کون کرے گا؟ ایسا نہ ہو کہ ہم فجر کی نماز کے لیے نہ جاگیں۔‘‘ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں خیال رکھوں گا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف منہ کر لیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ خود سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر بھی نیند نے غلبہ پالیا اور وہ بے ا ختیار سوگئے۔ جب آفتاب گرم ہوا تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر صحابہ جاگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے اُن کا عذر سن کر فرمایا: ’’اونٹ کی نکیل پکڑ کرچلو کیونکہ یہ شیطان کی جگہ ہے۔‘‘ پھر (دوسری جگہ پہنچ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ (نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، باقی لوگوں نے بھی دو دو سنتیں پڑھیں) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: ’’جو شخص نماز بھول جائے، اسے چاہیے کہ جب یاد آئے تو نماز پڑھ لے۔‘‘[1] کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ فوت شدہ نماز کو دوسرے دن اس کے وقت پر پڑھا جائے بلکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بالکل عیاں ہے کہ نیند سے بیدار ہونے پر فوراً نماز ادا کی جائے، لہٰذاقضا نماز کی ادائیگی کے لیے اس کے بعد والی نماز کے وقت یا اگلے دن اسی نماز کے وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسی وقت ادا کر کے مزید توبہ و استغفار اور نیکی کےکاموں میں سبقت لے جانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔[2] سفر میں اذان دے کر نماز پڑھنا: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھارا پروردگار اس بکریاں چرانے والے سے تعجب کرتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر رہ کر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو جو نماز کے لیے اذان دیتا اور اقامت کہتا ہے اور مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اس کو بخش دیا اور جنت میں داخل کیا۔‘‘ [3] معلوم ہوا کہ جو شخص سفر میں اذان اور اقامت کہہ کر (امام کی طرح) نماز پڑھے تو اس کے لیے زیادہ اجر [1] صحیح البخاري، مواقیت الصلاۃ، حدیث: 595، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 680۔ [2] دیکھیے: صحیح البخاري، مواقیت الصلاۃ، حدیث: 597، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 684۔ [3] [صحیح] سنن أبي داود، صلاۃ السفر، حدیث: 1203، وسندہ صحیح، وسنن النسائي، الأذان، حدیث: 667، امام ابن حبان نے الموارد، حدیث: 260 میں اسے صحیح کہا ہے۔