کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 99
(( اَلدُّعَائُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ۔)) [1] ’’ دعا ہی عبادت ہے۔ ‘‘ اور مدد صرف اللہ سے مانگنی چاہیے کیوں کہ اس نے فرمایا ہے: ﴿ وَیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَبَنِینَ ﴾ [نوح:۱۲] ’’ اللہ مالوں اور بچوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا۔ ‘‘ (۳)… عبادت میں شرک کی ایک شکل حاکمیت میں شرک کرنا بھی ہے: جب حاکم یا محکوم (عوام) یہ اعتقاد رکھیں کہ اللہ کا قانون فرسودہ ہوگیا ہے یا وہ غیراللہ کے قانون کو جائز قرار دے۔ تو یہ عقیدہ بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ (۴)… صفات میں شرک کی نفی: صفات میں شرک یوں ہے کہ بندہ، اولیاء اور انبیاء وغیرہ کو ان صفات کا حامل قرار دے جو صرف اللہ کے ساتھ خاص ہیں ، جیسے علم غیب وغیرہ۔ اس قسم کا شرک صوفیوں میں بہت عام ہے اور جو لوگ ان سے متاثر ہیں وہ بھی اس میں ملوث ہیں ۔ ایک صوفی مؤلف بوصیری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت یوں لکھی ہے: فَإِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَہَا وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمُ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ ’’ دنیا و آخرت تیری سخاوت کا نتیجہ ہے اور لوح و قلم کا علم بھی تیرے علوم میں سے ہے! ‘‘ اس طرح کی گمراہی ان دجالوں کی ہے جو بیداری کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ڈھونک رچاتے ہیں ۔ اور پھر اپنے زعم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھیوں کے دل کی خفیہ باتیں پوچھتے ہیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے معاملات میں ان کا حکم طلب کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس طرح کی چیزیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیاتِ مبارکہ میں بھی نہیں جانتے تھے، جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے: [1] سنن الترمذي: ۱۱/ ۲۰۱، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، حدیث: ۲۹۶۹۔