کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 97
چاہیے۔ اور یہ لوگ جو غیراللہ کو پکارتے ہیں ، ان کو کچھ نہیں ملے گا، نہ ہی وہ ان کی کوئی حاجت پوری کریں گے۔ ان کی مثال تو اس (بیوقوف) جیسی ہے جو کسی نہایت گہرے کنویں کے کنارے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجائے کہ اس کنویں کے پانی کو کھڑا کھڑا اپنے ہاتھوں میں بھرلے۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس آیت سے مراد یہ ہے کہ وہ بندہ اپنے ہاتھ سے پانی کو بلائے اور زبان سے اس کو پکارے تو وہ کبھی اس کے پاس نہیں آئے گا۔ (ابن کثیر) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ غیروں کو پکارنے والوں پر کفر کا حکم لگایا ہے اور یہ کہ ان کی دُعا بھی رائیگاں جائے گی۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَا دُعَائُ الْکٰفِرِیْنَ إِلَّا فِیْ ضَلَالٍ o﴾ [الرعد:۱۴] اے مسلمان! بچ جا، اس بات سے کہ تو غیراللہ کو پکار کر کفر کا ارتکاب کرے۔ تیری دُعائیں بھی برباد ہوجائیں اور تو گمراہ بھی ہوجائے۔ ایک ہی اللہ قدرت والے کو پکار تاکہ تیرا شمار توحید والے مسلمانوں میں ہوجائے۔ زباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل بنایا ہے بت پندار کو اپنا الٰہ تو نے حریف نکتۂ توحید ہوسکا نہ حکیم نگاہ چاہیے اسرارِ ’’ لا الٰہ ‘‘ کے لیے اللہ کے ساتھ شرک کی نفی کیونکر! تین قسم کے شرک کی نفی کیے بغیر شرک کی نفی ممکن نہیں ۔ (۱)… اللہ کے افعال میں شرک کی نفی: اور وہ یہ ہے کہ بندے کا عقیدہ ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا بھی خالق اور کائنات کو چلانے والا ہے۔ جیسے بعض صوفیوں کا نظریہ ہے کہ اللہ نے دنیا کاکاروبار چلانے کے لیے