کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 95
عَمَلُکَ وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ o﴾ [الزمر:۶۵] ’’ اور یقینا آپ کی جانب وحی کی گئی اور آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی کی گئی کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے اعمال برباد ہوجائیں گے اور آپ ضرور ناکام لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ ‘‘ شرکِ اکبر کا علاج: شرکِ اکبر کو شرک چھوڑ دینے اور اس سے توبہ کرنے کے بغیر اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَمَنْ یُّشْرَکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰـــلًا بَعِیْدًا o﴾ [النساء:۱۱۶] ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس کام کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر گناہ جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ بہت دُور کی گمراہی میں جاگرا۔ ‘‘ شرک کی بہت ساری اقسام ہیں ۔ بالاجمال شرک چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی۔ ان سب سے بچنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دُعا سکھائی ہے کہ ہم یوں کہا کریں : (( اَللَّہُمَّ إِنَّا نَعُوذُبِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئاً نَعْلَمُہُ، وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔)) [1] ’’ اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم تیرے ساتھ کچھ بھی شریک کریں ۔ اور ہمیں اس کا علم ہو۔ ہم اس سے بھی معافی مانگتے ہیں جس کو ہم نہ جانتے ہوں ۔ ‘‘ غیراللہ کو پکارنے والی کی مثال: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : [1] مسند أحمد: ۴۲/ ۴۳۳۔