کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 94
تو جھٹ بولیں گے: ﴿ وَمَنْ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُولُونَ اللَّہُ ﴾ [یونس:۳۱] ’’اللہ ہی چلاتا ہے۔ ‘‘ …… مگر آج کے مشرکوں کی عقل اُن سے بھی زیادہ ماری گئی ہے۔ (۷) … خوف میں شرک: یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیاء اور فوت شدگان نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں ، اس وجہ سے ان سے ڈرنا چاہیے۔ یہ بھی شرک اکبر ہے اور یہی مشرکین مکہ کا عقیدہ تھا، جس سے اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ اَلَیْسَ اللَّہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ وَیُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِینَ مِنْ دُونِہِ ﴾[الزمر:۳۶] ’’ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے، اور وہ آپ کو اللہ کے سوا (مخلوق) سے ڈراتے ہیں ۔ ‘‘ ایک خوف طبعی ہوتا ہے، جیسے کسی درندے سے ڈرنا یا ظالم شخص سے ڈرنا، یہ شرک نہیں ہوتا۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی قوم سے ڈرگئے تھے۔ (۸) … حاکمیت کا خوف: اللہ تعالیٰ کے قانونِ اسلام کے خلاف قوانین صادر کرنا اور ان کو جائز قرار دینا یا اسلام کے قاعدے کو فرسودہ قرار دینا۔ یہ شرک حاکم اور محکوم دونوں پر لاگو ہوجاتا ہے۔ جب محکوم بھی اسی کو درست سمجھے اور اس پر خوش ہو۔ شرکِ اکبر کی سزا: شرک اکبر سے تمام اعمالِ صالحہ برباد ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَقَدْ اُوحِیَ إِلَیْکَ وَإِلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ