کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 92
’’ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا ہمسر گھڑلیتے ہیں ، پھر ان سے اللہ کے ساتھ محبت جیسی محبت کرتے ہیں ۔ اور جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ کے ساتھ سب سے شدید محبت کرتے ہیں ۔ کاش! یہ ظالم دیکھیں ، جب یہ عذاب کو دیکھیں گے کہ ساری کی ساری قوت اللہ ہی کی ہوگی اور بے شک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔ ‘‘ (۴) … طاعت و فرمانبرداری میں شرک: یہ کہ کتاب و سنت کے مقابلے میں اپنے مولویوں اور پیروں کی بات تسلیم کرنا اور اس کو جائز بھی قرار دینا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ اتَّخَذُوا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ﴾ [التوبۃ:۳۱] ’’ ان (اہل کتاب) نے اپنے مولویوں اور پیروں کو اللہ کے مقابلے میں ربّ بنالیا۔ ‘‘ اس آیت کی تفسیر میں (عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے ساتھ) لکھا گیا ہے کہ مولویوں اور پیروں کی بات مان کر اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا دراصل ان کی عبادت کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللَّہِ عَزَّوَجَلَّ۔ )) [1] ’’ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی بات ماننا جائز نہیں ۔ ‘‘ (۵)… فنا ہونے میں شرک: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق میں فنا ہوگیا۔ یا کوئی خاص آدمی فنا فی اللہ ہوگیا۔ یہ ابن عربی صوفی کا عقیدہ تھا جو دمشق میں مدفون ہے، حتی کہ اس نے یہ تک کہہ ڈالا: (( أَلرَّبُّ عَبْدٌ وَالْعَبْدُ رَبٌّ … یَا لَیْتَ شَعْرِیْ مَنِ الْمُکَلَّفُ؟ )) ’’ رب بندہ ہوگیا اور بندہ رب ہوگیا … ہائے! شریعت کا پابند کون رہا؟ ‘‘ [1] مسند أحمد: ۸/ ۴۹۳۔