کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 81
﴿ وَإِلَی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُودًا قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّہَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ اَفَلَا تَتَّقُونَ o﴾ [الاعراف:۶۵] ’’ قوم عاد کی طرف اُن کے بھائی ھود علیہ السلام کو بھیجا، انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے تم اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں ؟ ‘‘ ﴿ وَإِلَی ثَمُودَ اَخَاہُمْ صَالِحًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّہَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ o﴾ [ہود:۶۱] ’’ اور قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح علیہ السلام آئے، اُنھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ ‘‘ ﴿ وَإِلَی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّہَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ ﴾ [ہود:۸۴] ’’ اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام آئے، انھوں نے کہا: ایک اللہ کی عبادت کرو، تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ‘‘ ﴿ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیمُ لِاَبِیہِ وَقَوْمِہِ إِنَّنِی بَرَائٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ o إِلَّا الَّذِی فَطَرَنِی فَإِنَّہُ سَیَہْدِینِ o﴾ [الزخرف:۲۶۔۲۷] ’’ اور جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور قوم کو کہا: میں تمہارے معبودوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں ، مگر وہ اللہ جس نے مجھے پیدا فرمایا تو وہی مجھے (سیدھی) راہ دکھلائے گا۔ ‘‘ تمام انبیاء کا ان کی قوموں نے مقابلہ کیا اور ان کی دعوت کو ردّ کردیا اور ہر قسم کی حربی وسائل کے ساتھ ان کے ساتھ لڑائی کرنے لگے۔ خود ہمارے پیغمبر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ بعثت سے پہلے اہل مکہ میں صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے، لیکن جب آپ نے ایک اللہ کی عبادت اور غیراللہ کے انکار کی دعوت دی