کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 79
الشَّیْطَانِ۔)) [1] ’’ اے اللہ! ہمارے شام و یمن میں برکت فرما۔ انھوں نے کہا: نجد میں بھی۔ مگر آپ نے دوبارہ پھر یہی دُعا کی: اے اللہ! ہمارے شام و یمن میں برکت فرما۔ صحابہ نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں ۔ (بھی کہہ دیجیے۔) فرمایا: یہاں زلزلے او ر فتنے ہوں گے ، یہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ ‘‘ حافظ ابن حجر اور دیگر علماء کرام رحمہم اللہ نے یہ وضاحت فرمائی ہے، (حالانکہ یہ لوگ شیخ ابن عبدالوہاب سے پہلے کے لوگ ہیں ) کہ اس حدیث میں موجود نجد سے مراد عراق کا نجد ہے۔ وہاں سے واقعتا فتن کا ظہور ہوا۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کو وہاں شہید کیا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد نجد حجاز ہے، مگر یہ خیال درست نہیں ۔ اس لیے کہ وہاں سے عراق جیسے فتنے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس وہاں سے اللہ کی توحید ظاہر ہوئی کہ جس کے لیے اللہ نے دنیا کو پیدا فرمایا ہے۔ اور اسی کے لیے اللہ نے رسولوں کو معبوث فرمایا تھا۔ یہاں کچھ ایسے منصف علماء بھی ہیں ، جنھوں نے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کو بارھویں صدی ہجری کے مجددّین میں شمار کیا ہے۔ ان مؤلفین میں ایک نام شیخ علی طنطاوی کا بھی ہے، جنھوں نے تاریخ کے اکابرین کا ایک سلسلہ لکھا اور اس میں محمد بن عبدالوھاب اور احمد بن عرفان رحمۃ اللہ علیہم کا ذکر کیا ہے۔ شیخ طنطاوی نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ ہندوستان جیسے دور دراز کے ملکوں میں عقیدۂ توحید کی دعوت ان حجاج کے ذریعے پہنچی جو مکہ میں اس سے متأثر ہوئے تھے۔ اسی لیے انگریز اور اسلام دشمن قوتیں اس دعوت کی مخالف ہوگئیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ توحید مسلمانوں کو ان کے خلاف ایک کردے گی۔ چنانچہ انھوں نے اپنے نمک خواروں سے کہا کہ وہ اس دعوت کا چہرہ بگاڑ کر پیش کریں ۔ تب انھوں نے توحید اپنانے والے ہر شخص کو وہابی کہنا شروع کردیا۔ ان کا مطلب ہوتا تھا کہ یہ کوئی نیا دین ہے تاکہ لوگوں کو اس توحید کی [1] صحیح البخاري: ۴/ ۲۴۲، کتاب الاستسقاء۔ باب ما قیل فی الزلازل والآیات، ح: ۱۰۳۷۔