کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 77
مقدس مقام دیا جاتا تھا ، جس کا حق دار صرف اللہ ہے۔ آپ نے مدینہ طیبہ میں سنا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کے مقابلے میں مدد مانگتے ہیں جو کہ سراسر کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَط فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِینَ o﴾ [یونس:۱۰۶] ’’ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو جو تمھیں نفع و نقصان نہیں دے سکتا۔ اگر تو نے پھر بھی ایسا کیا تو تم ظالموں میں ہوجاؤگے۔ ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: (( إِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللَّہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّہِ۔)) [1] ’’ جب بھی مانگو اللہ سے مانگو اور جب بھی مدد طلب کرو، اللہ ہی سے طلب کرو۔ ‘‘ آپ نے اپنے علاقے میں توحید اور ایک اللہ کو پکارنے کی طرف دعوت دینے کا آغاز کیا، کیونکہ وہی قادر مطلق اور خالق ہے۔ باقی سب کے سب اپنی تکلیف بھی رفع نہیں کرسکتے، نہ کسی اور کی۔ اور صالحین بزرگوں کی محبت کا تقاضا ان کی اتباع کرنے میں ہے نہ کہ ان کو اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ بنانے میں ۔ نہ ہی ان سے دُعا کرکے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ قوم کا ردّ عمل: اہل بدعت شیخ صاحب کی اس دعوت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور یہ کوئی خلافِ توقع بات نہیں تھی۔ توحید کے دشمن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی کھڑے ہوگئے تھے اور تعجب سے کہتے: ﴿ اَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ o﴾ [صٓ:۵] [1] سنن الترمذي: ۹/ ۴۳۰، کتاب صفۃ القیامۃ، باب قول النبی یا حنظلۃ ساعہ وساعۃ۔