کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 73
بھٹکادیا۔ اے ہمارے رب! ان کو دوہرا عذاب دے اور بہت بڑی لعنت ان پر کردے۔ ‘‘ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یعنی کہیں گے کہ ہم نے اپنے حکمرانوں اور بڑوں کی بات مانی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی اور ہمارا عقیدہ یہ تھا کہ ان بزرگ لوگوں کے پاس بھی کچھ ہے۔ (یعنی خدائی اختیارات ہیں ) جہنم میں اچانک پتہ چلے گا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ وہابی کاکیا معنی؟ عام لوگوں کی عادت ہے کہ ہر وہ شخص جو ان کے عقائد، بدعات اور عادات کی مخالفت کرے اس پر وہابی کا فتویٰ لگادیتے ہیں ۔ اگرچہ ان کے عقائد فاسد ہی کیوں نہ ہوں ۔ وہ آیاتِ قرآنیہ اور صحیح احادیث کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں ۔ خصوصاً توحید کی دعوت اور ایک اللہ کی پکار کے بارے میں تو وہ داعی کو فوراً وہابی کہہ دیں گے۔ ایک دفعہ میں أربعین نووی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ایک استاذ کو پڑھ کر سنارہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( إِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللّٰہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّہِ۔)) [1] ’’ جب بھی مانگو، اللہ سے مانگو اور جب بھی مدد طلب کرو تو ایک اللہ ہی سے طلب کرو۔ ‘‘ تو مجھے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح بہت پسند آئی۔ فرماتے ہیں : ’’ پھر جو حاجت وہ مانگ رہا ہے وہ مخلوق کے ہاتھوں عادتاً وقوع پذیر نہ ہوتی ہوجیسے ہدایت و علم کا حصول وغیرہ اور بیماری سے شفا، تو ان حاجات کی بابت صرف اللہ ہی سے سوال کرے، رہا مخلوق سے مانگنا اور ان پر اعتماد کرنا تو وہ بہت برا ہے۔ ‘‘ [1] سنن الترمذي: ۹/ ۴۳۰، کتاب صفۃ القیامۃ، باب قول النبی یا حنظلۃ عاعۃ وساعۃ۔