کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 71
مرنے والوں اور اولیاء کی دعوت کی نفی کو وہ جائز قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں وارد آیات کی وہ تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سے مراد غیرمسلم مشرک ہیں ، مسلمان مشرک نہیں ہوسکتا۔ گویا انھوں نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہی نہیں : ﴿ الَّذِینَ آَمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولَئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُونَ o﴾ [الانعام:۸۲] ’’ وہ لوگ جو ایمان لائے پھر اپنے ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ ملوث نہ کیا انھیں لوگوں کے لیے امن ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں ۔ ‘‘ ظلم سے مراد یہاں شرک ہے، اس کی دلیل: ﴿ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ o﴾ [لقمان:۱۳] ’’ اس میں کچھ شک نہیں کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ ‘‘ سورۃ الانعام کی مذکور بالا اس آیت کے مطابق مسلم اور مؤمن بھی شرک میں مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ آج اکثر مسلمان ملکوں میں یہی حال ہے۔ یہ علماء جو اب لوگوں کے لیے غیراللہ کی پکار، مساجد میں دفن ہونا، قبروں کے گرد طواف، ولیوں کے لیے نذر و نیاز اور دوسری بدعات و خرافات کو جائز کر رہے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا: (( إِنَّمَا اَخَافُ عَلَی اُمَّتِي الْائِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) [1] ’’ مجھے اپنی اُمت کے لیے گمراہ کن اماموں کا ڈر ہے۔ ‘‘ جامعہ ازہر کے ایک سابقہ شیخ سے پوچھا گیا: قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا کیا جائز ہے؟ اس نے کہا: کیوں جائز نہیں ؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرف مسجد نبوی میں سب لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں دفن نہیں ہوتے تھے، بلکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں دفن ہوئے تھے۔ آپ نے تو قبور کی طرف نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ کی ایک دُعا [1] سنن الترمذي: ۸/ ۴۴۷، کتاب الفتن، باب مَا جَائَ فِي الاَئِمَّۃِ الْمُضِلِّینَ، حدیث: ۲۲۲۹۔