کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 69
﴿ وَلَوْ أَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ o﴾ [الانعام:۸۸] ’’ اور اگر وہ شرک کے بیٹھتے تو ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ ‘‘ توحید کو دوسری چیزوں پر اگر وہ مقدم رکھتے تو ان کی دعوت کامیاب ہوجاتی اور انبیاء و رسل علیہم السلام کی طرح اللہ ان کی بھی مدد ضرور فرماتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آَمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِینَہُمُ الَّذِی ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًاط یَعْبُدُونَنِی لَا یُشْرِکُونَ بِی شَیْئًاط وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَاُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ o﴾ [النور:۵۵] ’’ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو ضرور زمین کا خلیفہ بنائے گا، جیسے کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور اعلیٰ مقام عنایت فرمائے گا کہ جس کو ان کے لیے پسند فرمایا ہے۔ اور لازمی طور پر ان کے خوف و ہراس کو امن کے ساتھ بدل ڈالے گا۔ وہ میری عبادت کرتے ہیں اور میرے ساتھکسی کو شریک نہیں بناتے اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو وہ ہی لوگ فاسق و نافرمان ہوں گے۔ ‘‘ تو دیکھیں اللہ کی مدد کے لیے بنیادی شرط توحید ہی ہے۔ (۳)… تیسری قسم کے وہ علماء ہیں جو لوگوں کے خوف کے مارے کہ وہ ان پر ٹوٹ