کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 65
(۵)… توحید مساوات اور اُخوت کی بنیاد ہے، کیونکہ وہ اہل توحید کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ایک دوسرے کو اللہ کے مقابلہ میں ربّ بنالیں ۔ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اور عبادت کرنے والے سب لوگ برابر ہیں ۔ ان کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ [1] توحید کے دشمن: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِینَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوحِی بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا o﴾ [الانعام:۱۱۲] ’’ یوں ہم نے جنوں اور انسانوں کے شیاطین کو ہر نبی کا دشمن بنادیا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دھوکا دینے کے لیے خودساختہ خوبصورت باتوں کی وحی کرتے ہیں ۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اُس نے انبیاء کرام اور توحید کے داعیان کا دشمن جن شیطانوں کو بنادیا۔ وہ انسانی شیطانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہوئے گمراہی، شر اور باطل اشیاء کی وحی کرتے ہیں تاکہ وہ ان کو گمراہ کرکے اس توحید سے روک دیں ، جس کی طرف انبیاء کرام علیہم السلام نے سب سے پہلے اپنی اقوام کو بلایا۔ کیونکہ وہی بنیاد ہے جس پر دعوت اسلامی کھڑی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بعض لوگ توحید کی دعوت کو اُمت کے اختلاف کا سبب سمجھتے ہیں ، حالانکہ توحید اُمت کو ایک کرنے والی دعوت ہے۔ خود اس کا نام بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ وہ مشرک جو توحید ربوبیت کو مانتے تھے کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے، انھوں نے توحید اُلوہیت کو ماننے سے انکار کردیا کہ ایک ہی اللہ سے دعا کی جائے۔ انھوں نے اپنے اولیاء کو پکارنا بالکل نہ چھوڑا، بلکہ وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہ جو ان کو ایک ہی رب کو پکارنے اور اسی کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے ، کہنے لگے: ﴿ اَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ o﴾ [صٓ:۵] [1] علامہ یوسف قرضاوی کی کتاب ’’ حقیقۃ التوحید ‘‘ سے یہ عبارت بالمعنی لی گئی ہے۔