کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 58
(( إِنَّکَ تَاْتِي قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ۔ فَادْعُہُمْ إِلَي شَہَادَۃِ اَنْ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔وَأَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔)) [1] ’’ تم اہل کتاب کی ایک قوم (نصاریٰ) کے پاس جارہے ہو۔ سب سے پہلے ان کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کی دعوت دینا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دینا۔ ‘‘ (۴) … توحید، لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کے کلمہ میں موجود ہے۔ اس کا معنی ہے کہ اللہ کے سوا عبادت کا حق دار اور کوئی نہیں اور نبی کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کو پڑھ کر کافر اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ جنت کی چابی ہے، اس کو پڑھنے والا جنت میں چلا جاتا ہے، بشرطیکہ اس نے اپنے عمل سے اس کلمہ کی نفی نہ کی ہو۔ (۵)… کفارِ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لالچ کا اچھا پیکج دیا تھا۔ کہا: ہم آپ کو اپنا بادشاہ مان لیتے ہیں ، سب سے زیادہ مالدار بنادیتے ہیں ، نیز خوبصورت عورت سے شادی بھی کردیتے ہیں ، اس کے علاوہ بھی زندگی کے فوائد دیں گے، مگر آپ دعوت توحید کو چھوڑدیں ، بتوں پر طعن نہ کریں ۔ لیکن آپ نے یہ پیکج قبول نہیں فرمایا۔ بلکہ آپ نے دعوت جاری رکھی اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تکالیف برداشت کرتے رہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ دعوتِ توحید کی مدد ہوئی تیرہ سال کے بعد۔ (اور ہجرت کی اجازت ملی) اور اس کے بعد مکہ بھی فتح ہوگیا۔ تب آپ بت توڑتے ہوئے کہہ رہے تھے: ﴿جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا o﴾ [الإسرا:۸۱] ’’ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، باطل کو تو بھاگنا ہی تھا۔ ‘‘ (۶)… توحید مسلمان کی زندگی بھر کا مشغلہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کو توحید سے شروع کرتا [1] صحیح البخاري، کتاب المغازي، ح: ۴۳۴۷۔ صحیح مسلم: ۱/ ۱۵۰، کتاب الإیمان، باب الدُّعَائِ إِلَی الشَّہَادَتَیْنِ وَشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ، ح: ۱۲۱۔