کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 57
کرتا ہے۔ یہی دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں ابدی جہنم کا سبب ہے۔ (۲)… تمام رسولوں نے اپنی دعوت کا آغاز اس توحید سے کیا جس کو لوگوں تک پہنچانے کا حکم اللہ نے ان کو دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِی إِلَیْہِ اَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنَا فَاعْبُدُونِ o﴾ [الانبیا:۲۵] ’’ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے، ان کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، بس میری ہی عبادت کرو۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ میں رہے اور لوگوں کو توحید کی طرف بلاتے رہے اور یہ کہ صرف ایک اللہ ہی کو پکارو۔ اللہ کے نازل کردہ قرآن عظیم میں ہے: ﴿ قُلْ إِنَّمَا اَدْعُو رَبِّیْ وَلَا اُشْرِکُ بِہِ اَحَدًا o﴾ [الجن:۲۰] ’’ ان سے کہہ دیں میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔ ‘‘ آپ اپنے ساتھیوں کی بچپن سے ہی توحید پر تربیت کرتے رہے۔ اپنے چچازاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (جو کہ چھوٹی عمر میں تھے) سے فرماتے ہیں : (( إِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللَّہَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّہِ۔)) [1] ’’ جب بھی مانگو اللہ سے مانگو اور جب بھی مدد طلب کرو، اللہ ہی سے طلب کرو۔ ‘‘ توحید، اسلام کی وہ بنیادہے جس پر اسلام قائم ہوا ہے اور اللہ اس کے بغیر کسی کا عمل قبول نہیں فرماتا۔ (۳)… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہی تعلیم دی کہ وہ اپنی دعوت کا آغاز توحید ہی سے کریں ۔ چنانچہ جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: [1] سنن الترمذي: ۹/ ۴۳۰، کتاب صفۃ القیامۃ، باب قول النبی یا حنظلۃ ساعۃ وساعۃ، ح: ۲۵۱۶۔