کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 56
اسْتَوٰی﴾ [طٰہٰ:۵] ’’ رحمن عرش پر بلند ہوا۔ ‘‘ اور اس کا عرش سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ ‘‘ اور جو یہ کہے کہ وہ عرش پر تو ہے لیکن نہ جانے عرش زمین پر ہے یا آسمان پر وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ اس نے اللہ کے آسمان پر ہونے کا انکار کردیا اور جس نے اللہ کے آسمان پر ہونے کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ علیین مقام کے اوپر ہے۔ اور اُس سے اوپر کی طرف دُعا کی جاتی ہے نہ کہ نیچے کی طرف۔ [1] (۱۲)… امام مالک رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کے بارے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’ اللہ کا عرش پر ہونا معروف ہے، اس کی کیفیت نامعلوم ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور اس کی کیفیت کے بارے سوال کرنا بدعت ہے۔ پھر کہا: اس (سائل) بدعتی کو مجلس سے نکال دو۔ ‘‘ (۱۳) … استویٰ کا معنی استولی یعنی ’’والی ہوا‘‘ غلط معنی ہے، کیونکہ یہ معنی سلف صالحین نے نہیں کیا اور ان کا طریقہ زیادہ سلامت، زیادہ علم و حکمت والا ہے۔ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اللہ نے یہودیوں کو کہا کہ حطۃ کہو، مگر انھوں نے تحریف کرتے ہوئیحنطۃ بول دیا ۔ اور اللہ نے ہمیں فرمادیا کہ وہ عرش پر مستوی ہے تو ہم میں سے تاویل کرنے والوں سے استولیٰ بولا دیا۔ دیکھو ان کا اضافہ کردہ لام یہودیوں کے اضافہ کردہ ن سے کتنا مشابہ ہے۔ یہ بات محمد امین شنقیطی نے حافظ ابن قیم رحمہما اللہ سے نقل کی ہے۔ توحیدکی اہمیت: (۱)… اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور رسولوں کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو ربّ کائنات کی توحید کی طرف بلائیں ۔ قرآنِ کریم اکثر سورتوں میں توحید کا اہتمام کرتے ہوئے افراد و جماعت پر شرک کے نقصانات واضح [1] شرح عقیدہ طحاویۃ: ۳۲۲۔