کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 52
مخلوق کی طرف متوجہ ہو۔ اس کو شریک بنا رہے ہو، اپنی حاجات مخلوق سے مانگتے ہو، ان مہممات میں اس پر بھروسہ کرتے ہو۔ اپنے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے درمیان سے حائل سارے واسطے ختم کرو۔ کیونکہ تمہارا ان واسطوں کے ساتھ کھڑا ہونا پاگل پن ہے۔ نہ بادشاہی، نہ حکومت، نہ تونگری اور نہ عزت مگر سب حق تعالیٰ کے لیے ہے۔ حق کے ساتھ ہوجاؤ، مخلوق کے ساتھ نہ ہو، یعنی اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ مانگو۔ ‘‘ (۴)… جائز مدد طلب کرنا یہ ہے کہ تم اپنی مشکلات میں ایک اللہ کو پکارو۔ اور شرکی مدد کی طلب یہ ہے کہ تم اللہ کے علاوہ انبیاء، وفات شدہ اولیاء اور غیر حاضر زندہ اولیاء سے مدد طلب کرو۔ اور یہ ہستیاں نفع و نقصان کی مالک نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی دعا سن سکتی ہیں ۔ اور اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتیں ، جیسے کہ قرآن نے ان کا وصف بیان فرمایا ہے۔ جہاں تک موجود اور زندہ لوگوں سے ایسی مدد مانگنا جس پر وہ قدرت بھی رکھتے ہوں تو یہ بالکل جائز ہے۔ جیسے کہ مسجد بنانے یا کسی دوسرے کام کے لیے مالی مدد طلب کرنا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی ﴾ [المائدۃ:۲] ’’ نیکی اور تقویٰ (کے کاموں ) میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( وَاللَّہُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ اَخِیہِ۔)) [1] ’’ اللہ تعالیٰ اُس وقت تک اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ ‘‘ زندہ شخص سے مدد طلب کرنے کی جائز صورتوں میں سے یہ بھی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [1] صحیح مسلم: ۱۷/ ۳۱۰، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن۔