کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 51
اس دُعا کے واسطے سے دعا مانگے گا، اللہ اس کی دعا ضرور قبول کرے گا۔ ‘‘ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللَّہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّہِ۔)) [1] ’’ جب بھی مانگو، اللہ سے مانگو اور جب بھی مدد طلب کرو، اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ ‘‘ (۱)… امام نووی اور امام ہیثمی رحمہما اللہ نے اس حدیث کی تفسیر کی ہے، اور اس کا خلاصہ یوں ہے کہ: جب بھی دنیا یا آخرت کے کسی کام میں مدد چاہیے ہو تو صرف اللہ ہی سے حاصل کرو۔ خصوصاً وہ اُمور جن پر اللہ کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا۔ جیسے بیماری سے شفا، رزق اور ہدایت۔ تو یہ ان امور میں سے ہیں کہ جن کو اللہ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہوا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ وَإِنْ یَّمْسَسْکَ اللَّہُ بِضُرٍّ فَـلَا کَاشِفَ لَہُ إِلَّا ہُوَ﴾ [الانعام:۱۷] ’’ اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی نقصان لاحق کردے تو اس کو صرف وہی دُور کرسکتا ہے۔ ‘‘ (۲)… جس کو دلیل چاہیے تو اس کے لیے قرآن کافی ہے اور جس کو مدد چاہیے اس کو اللہ کافی ہے۔ اور جس کو وعظ چاہیے تو موت اس کو کافی ہے۔ اور جس کو یہ چیزیں کافی نہ رہیں ، تو پھر آگ اس کو کافی ہوجائے گی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ اَلَیْسَ اللَّہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ﴾ [الزمر:۳۶] ’’ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ؟ ‘‘ (۳)… شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الربانی میں کہتے ہیں : اللہ کے سوا کسی سے نہ مانگو، صرف اللہ سے مدد مانگو اور کسی سے نہ مانگو۔ تیرے لیے ہلاکت ہو! کل اپنے رب کو کس منہ سے ملوگے۔ اب تم اس کے ساتھ دنیا میں جھگڑا کر رہے ہو۔ اس سے منہ پھیر رہے ہو، [1] سنن الترمذي، ج: ۹، ص: ۴۳۰، کتاب صفۃ القیامۃ، باب قول النبی یاحنظلۃ ساعۃ وساعۃ۔