کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 49
عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا اور شرک میں ملوث ہوگئے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم آپ کو ’’ محمد عبد اللہ ورسولہ ‘‘ کہیں ۔ ( صلي الله عليه وسلم ) (۳)… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس میں ہے کہ: ایک اللہ کو پکارنے اور غیراللہ کو نہ پکارنے میں ہم نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کریں ۔ اگرچہ پکارا جانے والا کوئی رسول یا اللہ کا قریبی ولی ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَلِ اللَّہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّہِ۔)) [1] ’’ جب بھی مانگو تو اللہ سے اور جب بھی مدد طلب کرو تو اللہ سے۔ ‘‘ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی غم یا پریشانی پیش آتی تو فرماتے: (( یَا حَيُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیثُ۔)) [2] ’’ اے زندہ اور قائم رہنے والے میں تیری رحمت کے واسطے سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ ‘‘ اور اللہ اس شاعر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیجس نے کہا ہے: اَللّٰہَ أَسْأَلُ أَنْ یُفَرِّجَ کَرْبَنَا فَالْکَرْبُ لَا یَمْحُوْہُ اِلاَّ اللّٰہُ ’’ میں اللہ ہی سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہماری تکلیف رفع کردے۔ اس لیے کہ تکلیف تو اللہ ہی رفع کرسکتا ہے۔ ‘‘ إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ: اے اللہ! دعا کرنے، مدد طلب کرنے اور عبادت میں ہم تجھے ہی خاص کرتے ہیں ۔ (۱)… عربی لغت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مفعول بہٖ (اِیَّاکَ) کو فعل (نَعْبُدُ اور نَسْتَعِیْنُ) [1] سنن الترمذي: ۹/ ۴۳۰، کتاب صفۃ القیامۃ، باب قول النبی یا حنظلۃ عاعۃ وساعۃ۔ [2] سنن الترمذي: ۱۳/ ۲۵، کتاب الدعوات، باب: یَا حَيُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیث۔