کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 46
(۴)… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے اور آپ عرب کو یہی دعوت دیتے رہے: ((قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہَ۔)) … ’’ لوگو! لا الہ الا اللہ پڑھ لو۔ ‘‘ کہنے لگے ایک ہی معبود؟ یہ تو ہم نے کبھی نہیں سنا۔ کیوں کہ عرب اس کلمہ کا معنی سمجھتے تھے کہ جس نے یہ پڑھ لیا وہ غیراللہ کو نہیں پوج سکتا۔ لہٰذا انھوں نے اسے ترک کردیااور پڑھنے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کا ان کے متعلق فرمان ہے: ﴿ إِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ یَسْتَکْبِرُونَ o وَیَقُولُونَ اَئِنَّا لَتَارِکُوا آلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ o بَلْ جَائَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِین ﴾ [الصافات:۳۵۔۳۷] ’’ بے شک وہ (مشرک) کہ جب ان سے لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہا جاتا ہے تو وہ تکبر کیا کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں بھلا ہم اپنے معبود کسی شاعر اور پاگل کے لیے چھوڑ سکتے ہیں ؟ بلکہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو حق لے کر آئے ہیں اور سابقہ نبیوں کی آپ نے تصدیق کی ہے۔ ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَکَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّہِ حَرِمَ مَالُہُ وَدَمُہُ وَحِسَابُہُ عَلَی اللَّہِ۔)) [1] ’’ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس نے ان معبودوں کا انکار کیا، جن کی اللہ کے علاوہ پوجا کی جاتی ہے تو اس کا مال اور خون (دوسروں پر) حرام ہوگیا۔ اور حدیث کا معنی یہ ہے کہ اس کلمہ کو ادا کرنے کا تقاضا ہے ؛ غیراللہ کی عبادت کا انکار کیا جائے، جیسے کہ مرنے والوں سے مانگنا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بعض مسلمان زبان سے تو کلمہ پڑھتے ہیں مگر اپنے کردار سے اس [1] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث: ۱۳۰۔