کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 44
مثلاً اللہ کے عرش پر ہونے کی وضاحت صحیح بخاری میں بعض تابعین سے مروی ہوئی ہے کہ: اس سے مراد بلند ہونا ہے، جیسے اللہ کے جلال کے لائق ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ ﴾ [الشوریٰ:۱۱] ’’ اس جیسا کوئی بھی نہیں اور وہ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘ (۱)… تاویل یہ ہے کہ آیات اور صحیح احادیث کے ظاہری معنی کو باطنی معنی کی طرف لے جانا۔ جیسے استویٰ کا معنی بعض نے استَولیٰ کیا ہے، یعنی اللہ عرش کا مالک بنا۔ (۲)… تعطیل کا مطلب ہے اللہ کی صفات کا انکار کرنا، جیسے اللہ تعالیٰ آسمانوں پر بلند ہے۔ جبکہ بعض گمراہ فرقے کہتے ہیں اللہ ہر جگہ پر موجود ہے۔ (۳)… تکییف یہ ہے کہ اللہ کی صفات کی کیفیت بیان کرنا کہ اللہ کی صفت یوں ہے، یہ جائز نہیں ۔ تو اللہ کا عرش پر ہونا کسی مخلوق کے مشابہ نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا اس کیفیت کو کوئی نہیں جانتا۔ (۴)… تمثیل یہ ہے کہ اللہ کی صفات کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا۔ مثلاً یہ کہنا کہ اللہ آسمان دنیا پر ایسے ہی نزول فرماتا ہے، جیسے ہم اُترتے ہیں ۔ جیسے کہ حدیث نزول میں ہے: (( یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا۔)) [1] ’’ کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ ‘‘ بعض لوگوں نے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ پر جھوٹ باندھا ہے کہ آپ مذکورہ تشبیہ کے قائل تھے۔ مگر ایسی کوئی چیز ان کی کتب میں نہیں ملتی۔ بلکہ اس کے برعکس وہ تمثیل اور تشبیہ کا انکار کرتے ہیں ۔ (۵)… تفویض کا معنی ہے سپرد کرنا۔ تو سلف صالحین کے نزدیک اللہ کی صفات کی کیفیت اللہ کے سپرد کرنی ہے نہ کہ معنی۔ تو استواء کا معنی بلند ہونا ہے کہ جس کی کیفیت صرف اللہ جانتا ہے۔ [1] صحیح البخاري: ۴ / ۴۲۱، کتاب التہجد، باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل، حدیث: ۱۱۴۵۔